Pakistani Drama “Mery Pass Tum Ho” Viral Scenes

میرے پاس تم ہو

0
53

ڈرامہ “ میرے پاس تم ہو “ کو پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کا مقبول ترین ڈرامہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا یہ ڈرامہ جو کہ خلیل الرحمن قمر کا تحریر کردہ ہے جن کے چبھتے ہوئے ڈائیلاگ ان کی طرز تحریر کا انداز ہے اس ڈرامے میں بھی طاقتور اسکرین پلے کے ساتھ ایسے ڈائیلاگ اور مناظر بھی سامنے آئے جنہوں نے سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ان میں سے کچھ مناظر کے بارے میں ہم آج آپ کو بتائيں گے-

 

1: دو ٹکے کی عورت
ڈرامہ میرے پاس تم ہو کی بارہویں قسط کا ایک ڈائیلاگ اس دہائی کا سب سے زیادہ متنازعہ جملہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ جس میں دانش نے مہوش کو گھر سے جاتے ہوئے شہریار کو کہا کہ اس دو ٹکے کی عورت کے لیے آپ مجھے پچاس ملین دے رہے تھے-

2: پہلی محبت کی غلطی کو سدھارنے والے
اس ڈرامے کی بارہویں قسط سب سے مضبوط قسط تھی اس میں جب شہوارنے دانش کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے مہوش کو طلاق دے کر بہت اچھا کیا اور جو لڑکیاں پہلی محبت میں غلطی کر دیتی ہیں تو ان کی غلطی کو سدھارنے کا موقع دینے والے مرد بہت اچھے ہوتے ہیں-

 

3: مہوش کی بے وفائی کے بارے میں جان کر دانش کا ردعمل
گیارہویں قسط میں جب دانش شہوار کے آفس میں آتا ہے تو اس کو شہوار اپنی اور مہوش کی گفتگو سناتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ مہوش اب اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ایسے وقت میں دانش کا ردعمل اور اس کے ڈائیلاگ اس سین کی جان تھے دانش کے ردعمل اور اس وقت کے ڈائیلاگ اور مہوش کا شہوار کو گڈ لک کہنا دیکھنے والوں کو اشکبار کر گیا-

4: جب دانش نے مہوش کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا
دانش مہوش کا صرف شوہر ہی نہیں بلکہ اس کا محبوب بھی تھا شہوار کے پاس سے واپس آنے کے بعد اس کا یہ کہنا کہ میں محبت بچانے گیا تھا بڑی مشکل سے عزت بچا کر آیا ہوں اور اس کا مہوش کا بٹھا کر یہ سمجھانا کہ اس کو مہوش کی بے وفائی سے زیادہ اس بات کا دکھ ہے کہ وہ مہوش کو وہ زندگی اور خوشی نہیں دے سکا جو دینا چاہتا تھا-

5:مہوش کے جانے کے بعد رومی اور دانش کے سین
مہوش کی بے وفائی کے بعد دانش اور رومی اکیلے رہ گئے جس کا اثر دونوں کی زندگیوں پر پڑا مگر یہ حادثہ رومی کو وقت سے پہلے عمر سے بڑا کر گئے ان دونوں کے سین اور ڈائیلاگ کہ بیوی چھوڑ جائے تو بیوی نہیں رہتی مگر ماں چھوڑ جائے تو ماں ہی رہتی ہے اور رومی کا یہ کہنا کہ ماں بھی چھوڑ جائے تو ماں نہیں رہتی ہے-

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here